17

مریضوں میں ایچ آئی وی پھیلانے کا الزام،لاڑکانہ کا ڈاکٹر کلئیر قرار

 

لاڑکانہ کے ڈاکٹر مظفر گھانگھرو ایچ آئی وی پھیلانے کے مرتکب تو قرار نہیں پائے لیکن انھیں مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار ٹہرایا گیا ہے۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے انجکشن کے ذریعے مریضوں میں وائرس منتقل کیا۔

ایس ایس پی لاڑکانہ مسعود بنگش نے بتایا کہ  ڈاکٹر مظفر نے جان بوجھ کر اپنے مریضوں میں ایچ آئی وی منتقل نہیں کیا۔ تاہم انھوں نے ایسا کرنے سے روک تھام کے لیے خاطر خواہ کوششیں نہیں کیں۔ مسعود بنگش کو اس جے آئی ٹی کا حصہ بنایا گیا تھا جس کو ڈی آئی جی لاڑکانہ عرفان بلوچ نے تشکیل دیا تھا۔

ایچ آئی وی کی تشخیص کے باوجود مریض علاج کرانے سے قاصر

 ڈاکٹر مظفر کو 30 اپریل کو حراست میں لیا گیا تھا،ان کا ایڈز ٹیسٹ پوزیٹو آیا تھا۔ انھوں نے ابتدا میں یہ ٹیسٹ کروانے سے انکار کردیا تھا۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ڈاکٹر مظفر نے بدلہ لینے کی خاطر ایسا کوئی قدم اٹھایا۔

 مسعود بنگش نے اس دعویٰ کی نفی کی کہ ڈاکٹر مظفر کو دوسرے کی ناکامی پر قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اگر ہم اس کو پھنسانا چاہتے یا ایسا ثابت کرتے کہ وہ واحد مجرم ہے تو ہم یہ کہہ دیتے کہ اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے، یہ وہی کچھ ہے جو سب کا خیال ہے۔

جرائم کیخلاف لڑنے والا افسر لاڑکانہ میں ایچ آئی وی پھیلاؤ کے خاتمہ کیلئے کوشاں

انھوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہوئی ہیں،ہم کو معلوم ہوا کہ اس نے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا اور وہ فرد واحد نہیں تھا جس سے یہ سب ہوا، تاہم اس سے کوتاہی ضرور سرزد ہوئی۔

 

 

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں